بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آپریشن نصر 2 کی مختلف لہریں اور آپریشن صاعقہ کے ساتویں اور آٹھویں مرحلے محض دہشت گرد امریکی فوج کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا امتداد نہیں بلکہ اہداف کے انتخاب کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، لاجسٹک ڈھانچے، ایئر بیسز کے دفاعی نظامات، مواصلاتی نظامات، رسد کا نظام، اور فضائی تنصیبات کو اپنے ایجنڈے کے مرکز میں رکھا ہے۔
بحرین، کویت اور اردن میں نشانہ بنائے گئے اہداف کی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز (C2)، سپورٹ اور سپلائی کے مراکز، گولہ بارود اور ایندھن کے ڈپو، فضائی دفاعی نظام، لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، اور اسٹراٹیجک ڈرونز کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ اہداف جو مغربی ایشیا میں دہشت گرد امریکیوں کی جنگی تیاری، کمانڈ اور کارروائیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
"نصر 2" کی تیسری لہر؛ امریکی فضائی اور بحری انفراسٹرکچر پر بیک وقت حملے
آپریشن نصر 2 کی تیسری لہر میں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مقدس کوڈ نیم "یا زین العابدین(ع)" کے ساتھ، ک وقت بحرین میں شیخ عیسیٰ کے امریکی اڈے اور کویت میں علی السلم کے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا یا انہیں نقصان پہنچا۔
اس کارروائی میں شیخ عیسیٰ اڈے پر موجود اسلحے کے ذخیرے، جہازوں کے پرزے اور فوجی طیاروں کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی وقت، علی السلم اڈے پر MQ-9 ریپر ڈرون کے ریمپ کو نشانہ بنایا گیا، اور ان میں سے کئی ڈرون تباہ ہوگئے۔
یہ آپریشن اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے متعدد ساحلی مراکز پر دہشت گرد امریکی فوج کے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
بحرین میں شیخ عیسیٰ امریکی اڈہ جنوبی خلیج فارس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے سب سے اہم فضائی امدادی مراکز میں سے ایک ہے اور فضائی کارروائیوں کے لئے درکار ساز و سامان، گولہ بارود اور اسپیئر پارٹس کا ایک اہم حصہ اسی بیس کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ MQ-9 ڈرونز کو خطے میں دہشت گرد امریکی فوج کی جاسوسی، نگرانی اور درست حملوں کا اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے اور ان کے مقام کو نشانہ بنانا دشمن کی انٹیلی جنس اور جارحانہ صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ